ذوق لطیف
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ستھرا مذاق، پاکیزہ شوق۔ "تازہ کاری کے شگوفے کچھ یوں کھلے ہیں کہ ذوقِ لطیف، شاخِ گل کی طرح لہریں لینے لگتا ہے۔" ( ١٩٨٣ء، حصارِ اَنا، ٢١ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'ذوق' کو کسرہ صفت کے ذریعے عربی ہی سے مشتق صفت 'لطیف' کے ساتھ ملانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٤ء کو "آدمی اور مشین" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ستھرا مذاق، پاکیزہ شوق۔ "تازہ کاری کے شگوفے کچھ یوں کھلے ہیں کہ ذوقِ لطیف، شاخِ گل کی طرح لہریں لینے لگتا ہے۔" ( ١٩٨٣ء، حصارِ اَنا، ٢١ )
جنس: مذکر